ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: ضلع پنچایت میٹنگ میں افسران پر غفلت اور بدعنوانی کا الزام۔ زبردست ہنگامہ آرائی ۔ اراکین کا دھرنا اور واک آوٹ

کاروار: ضلع پنچایت میٹنگ میں افسران پر غفلت اور بدعنوانی کا الزام۔ زبردست ہنگامہ آرائی ۔ اراکین کا دھرنا اور واک آوٹ

Sat, 23 Jan 2021 12:45:21    S.O. News Service

کاروار،23؍جنوری (ایس او نیوز) ضلع پنچایت کے عام اجلاس کے دوران اراکین نے مختلف سرکاری اسکیموں کو لاگو کرنے میں افسران کی غلفت، بدعنوانی لگاتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی اور دھرنا دینے کے ساتھ میٹنگ سے واک آوٹ بھی کیا۔

میٹنگ میں دھرنا:    ضلع پنچایت صدر جئے لکشمی موگیر کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں اراکین نے افسران پر الزام لگاتے ہوئے اپنی ناراضی جتائی کہ کھارے پانی والے دیہی علاقوں میں پینے کا پانی فراہم کرنے کی اسکیم میں لاکھوں روپوں کی سرکاری رقم  ضائع  کردی گئی ہے۔  پشپا نائک نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ  جہاں میٹھا دستیاب ہے وہاں سے پائپ لائن کے ذریعے ان علاقوں کو پانی سپلائی کیا جانا چاہیے جہاں پر نمکین پانی ہوتا ہے۔ مگر افسران اس اسکیم کے تحت کھارے پانی والے علاقوں میں منصوبے بنا رہے ہیں، جس رقم برباد ہورہی ہے۔ دیگر اراکین نے اس بات کی حمایت کی اور افسران کے رویے پر غصہ کا اظہار کیا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران ایک رکن نے میٹنگ میں دھرنا دیا تو دوسرے رکن نے واک آوٹ کیا۔

ضلع پنچایت سی ای او پریانگا ایم نے اراکین کو سمجھانے بجھانے اور ماحول کو نارمل کرنے کی کوشش کی اور بتایا کہ آئندہ 30برس تک پینے کا پانی دستیاب ہونے کے ذرائع تلاش کرنا ضروری ہے اس کے لئءے ماہرین ارضیات [جیولوجسٹ] کی طرف سے معائنہ کیا جانا چاہیے۔

 کام پورا ہوئے بغیر بل کی ادائیگی:    ہوناورسے ضلع پنچایت کے رکن شیوانند ہیگڈے نے کہا کہ ان کے علاقہ پاون کوروا میں گزشتہ دو سال سے 18لاکھ روپے خرچ والا پانی کا منصوبہ زیر تعمیر ہے، مگر ابھی تک ہ کام پورا نہیں ہوا ہے۔ سست رفتاری سے چل رہا کام بھی اب ادھوری حالت میں روک دیا گیا ہے۔ اس سے عوام کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے رد عمل میں فوری جواب دیتے ہوئے ایک افسر نے  کہا اس منصوبے کا کام دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اس جواب سے شیوانند ہیگڈے کا پارہ چڑھ گیا۔ انہوں نے سخت مشتعل ہوکر کہا افسر کی طرف سے غلط بیانی ہورہی ہے۔ میں نے میٹنگ میں آنے سے قبل متعلقہ مقام کا دورہ کرکے تازہ صورت حال دیکھی ہے۔ اگر میری بات غلط ہے تو میں رکنیت سے استعفیٰ دوں گا اور اگر افسر نے جھوٹ بولا ہے تو پھر اس کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ اس مطالبہ کے ساتھ وہ صدر کے سامنے والی جگہ پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس مرحلے پر ضلع پنچایت سی ای او مداخلت کی اور تفصیل معلوم کرنے کے بعد کام اگربند ہے تو اسے پھر سے شروع کرنے کا یقین دلایا اور شیوانند ہیگڈے نے اپنا دھرنا ختم کیا۔

افسران پر لوٹ مچانے کا الزام:    بھٹکل سے رکن پنچایت البرٹ ڈی کوسٹا نے ضلع پنچایت انجینئر اور افسران پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ چھوٹی آب پاشی  اسکیم میں ضروری کام انجام دئے بغیر ہی بل ادا کیے جا رہے ہیں۔ ہوناور اور بھٹکل تعلقہ میں سیلاب کی وجہ سے نقصان پہنچے ہوئے 17 مقامات پر کام ہونا ہے۔ اس میں سے صرف چند ہی مقامات پر کام انجام دیا گیا ہے اور بقیہ کام پورا نہ ہونے کے باوجود ٹھیکیداروں کو لاکھوں روپے کے  بلس  ادا کیے جا رہے ہیں۔ یہ افسران کی جانب سے کی دن دہاڑے کی جارہی ڈکیتی ہے۔اس تعلق سے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال چھوٹی آب پاشی منصوبے کے تحت کروڑوں روپے کا فنڈ موصول ہوتا ہے، لیکن افسران کام انجام دئے بغیر ہی رقم لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ پر بھی نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ وہ اندھی ہوگئی ہے۔

میٹنگ سے واک آوٹ :   البرٹ ڈی کوسٹا کو جواب دیتے ہوئے چھوٹی آب پاشی محکمہ کے افسر نے مانا کہ کام کی تکمیل کے بغیر ہی ٹھیکیدار کو رقم دا کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹینڈر پاس ہونے کے بعد ہی کورونا لاک ڈاون شروع ہوگیا اس وجہ سے کام مکمل نہیں ہو سکا۔ اس پر البرٹ نے پوچھا کہ کورونا کی وجہ سے کام میں رکاوٹ ہوئی تھی تو پھر بل ادا کرنے میں کورونا رکاوٹ کیوں نہیں بنا؟ انہوں نےسی ای او  سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور قصور وار افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ جب سی ای او نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے بعد اقدام کیا جائے گا توالبرٹ نے یہ کہتے ہوئے میٹنگ سے واک آوٹ کیا کہ جب افسر نے خود ہی اپنا قصور قبول کر لیا ہے تو پھر اس کے خلاف کارروائی نہ کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے۔

 مائک سسٹم بگڑ جانے پر اراکین ہوئے ناراض:    ضلع پنچایت کے لئے نئے سال 2021 کا یہ پہلا عام اجلاس تھا۔ اور بہت دنوں سے اجلاس کی راہ دیکھنے والے اراکین اپنے اپنے علاقے کے مسائل پر بحث کے لئے تیار ہوکر آئے تھے۔  لیکن اجلاس کی ابتدا میں ہی مائک نے اراکین کا ساتھ نہیں دیا۔ اس طرح کی بد انتظامی پر ناراض اراکین نے ضلع انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتےہوئے کہا کہ جس طرح سرکاری افسران سرکاری اسکیموں کو لاگو کرنے میں غفلت اور کوتاہی کا مظاہرا کررہے ہیں اسی طرح بحسن و خوبی میٹنگس کا انعقاد  کرنے میں بھی غفلت برتی جا رہی ہے۔ سی ای او پریانگا نے مداخلت کرتے ہوئے مشتعل اراکین کو تیقن دلایا کہ جلد ہی نئے مائک کا بندوبست کیا جائے گا۔

میٹنگ میں آیوش، صحت، تعلیمات عامہ ، اسپورٹس اور دیگر محکمہ جات کے افسران نے اپنی اپنی کارکردگی کی رپورٹس پیش کی جس پر تبادلہ خیال اور بحث کی گئی۔

ضلع پنچایت نائب صدر سنتوش رینکے، زراعت اور صنعت کی اسٹانڈنگ کمیٹی صدر اوشا نائک، تعلیم و صحت کی اسٹانڈنگ کمیٹی صدر چیترا کوٹھارکر وغیرہ موجود تھے۔


Share: